January 6, 2020


Waqia-e-Karbala ka Haqeeqi Pas Manzar 72 Saheeh-ul-Isnaad Ahadees Ki Roshni Me (Chapter-A)-A Reply

پہلا باب: منہج نبوی ﷺ پرقائم خلافت راشدہ کی صحیح مدت کتنی تھی ؟ اور خلافت راشدہ کے اہل حقیقی خلفائے راشدین کون تھے؟

انجینئر محمد علی مرزا صاحب سوشل میڈیا پر گزشتہ چند برسوں سے بہت زیادہ متحرک ہیں۔ان کے بہت سے کام اچھے اور قابل تحسین ہیں، مرزا صاحب نے فرقہ واریت ، فرقہ ورانہ تعصبات اور مذہبی منافرت کے خلاف بہت مثبت کام کیا ہے جس کے نتیجے میں عوام جو کہ فرقہ واریت سے بہت تنگ آ چکی تھی کسی ایسے شخص کی منتظر تھی جو اس میدان میں آواز حق اٹھائے لہذا محمد علی مرزا صاحب کا عوام میں مقبولیت پانا بے جا نا تھا۔ لیکن بعض موضوعات پر اپنی کم علمی کی وجہ سے ان سے بہت بڑی علمی اغلاط سرزد ہوئی ہیں جن کا عوام الناس پر بہت بُرا اثر پڑا ہے۔

شیعہ سُنی اختلافات ، مشاجرات صحابہ اور اس نوعیت کے موضوعات پر محمد علی مرزا صاحب کا کم و بیش سارا کام اپنی بنیاد ہی میں بہت بڑی اور اساسی نوعیت کی علمی اغلاط پر مبنی ہے۔خاص طور پر ان کا ایک ریسرچ آرٹیکل جسکاعنوان ہے ’’واقعہ کربلا کا حقیقی پس منظر 72 صحیح الاسناد احادیث کی روشنی میں‘‘ ۔محمد علی مرزا صاحب کے بقول یہ آرٹیکل ان کی بہترین تحقیقی کاوشوں کا ثمر ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی فکر کی اساس بھی ہے، مزید یہ کہ محمد علی مرزا صاحب کہتے ہیں کہ اگر مولانا سید بوالاعلی مودودی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب ’’خلافت و ملوکیوت‘‘ ایٹم بم ہے تو میرا یہ آرٹیکل ہائیڈروجن بم ہے، جبکہ مطالعہ کے بعد معلوم ہوا کہ اس آرٹیکل میں علی مرزا صاحب نے جگہ جگہ نہ صرف بنیادی علمی غلطیاں کی ہیں بلکہ اس آرٹیکل میں جانبداری اور علمی خیانت بھی کافی واضح ہے ۔علی مرزا صاحب کی توجہ دلانے کی غرض سے ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب کی زیر نگرانی ایک جامع سوالنامہ بھی تیارکروا کر علی مرزا صاحب کو ارسال کیا گیا جسے انہوں نے غور سے پڑھ کرڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب کے دوست محمد عاصم مغل جو کہ اُن کے بہاف پر علی مرزا صاحب اور ان کے ساتھیوں سے رابطے میں تھے کو فون کال بھی کی اور ملاقات کی دعوت بھی دی لیکن کال میں ہونے والی گفتگو کے دوران سوالنامے کے پہلے حصے کو نظر انداز کیا گیا جو کہ اصل بنیادی سوالات پر مبنی تھا جبکہ سوالنامے کے آخری حصے کو گفتگو میں موضوع بحث بنایا گیا جو کہ سب سے کم اہم تھا ۔

بہرحال اس گفتگو کے بعد ڈاکٹر حافظ محمد زبیر صاحب اپنے ساتھیوں (محمد عاصم مغل، طاہر علی نصیر، جواد احد) کے ہمراہ محمد علی مرزا صاحب کے ہاں ملاقت کے لئے گئے جس کی تفصیل ڈاکٹر زبیر صاحب کی فیسبک پوسٹ پرپڑھی جا سکتی ہے اور لنک بھی نیچے موجود ہے۔ ملاقات سے واپسی پر حافظ زبیر صاحب کی زیر نگرانی محمد علی مرزا صاحب کے اُسی ریسرچ آرٹیکل کے جوابی بیانیے کو ویڈیوز کی شکل میں ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب نے اپنی مصروفیات میں سے وقت نکال کر اس کام کو اہمیت دیتے ہوئے محمد علی مرزا صاحب کے آرٹیکل کے جوابی بیانئے کی ویڈیوز ریکارڈ کروانا شروع کر دیں ۔ ویڈیوز کو محمد علی مرزا صاحب کے آرٹیکل کے ابواب کے مطابق ریکارڈ کروایا گیا ہے یعنی ہر باب کی ایک ویڈیو۔ ویڈیوز کا دورانیہ ڈیڑھ گھنٹے سے تین گھنٹے تک کا ہے ۔ آرٹیکل میں کل چھ ابواب ہیں اور چوتھے باب کے طویل ہونے کی وجہ سے اس پر دو ویڈیوز ریکارڈ کرنی پڑی ہیں یعنی کل سات ویڈیوز میں اس آرٹیکل کا احاطہ کیا گیا ہے۔

ہمارے پاس نہ تو ویڈیو ریکارڈنگ کے پروفیشنل سطح کے اسباب موجود تھے اور نہ ہی ہمیں اس قسم کا کوئی تجربہ تھا۔ لہذا یہ ساری کی ساری ویڈیوز کسی باقاعدہ اسٹوڈیو کی بجائے گھر میں بنائی گئی ہیں اور گھر میں بھی کوئی ایک جگہ مختص کرنا ہمارے لئے ممکن نہ تھا ، سو جہاں جگہ ملی وہیں ریکارڈنگ کر لی جس کی وجہ سے تمام ویڈوز میں سمٹری (یکسانیت)نظر نہیں آئے گی اور نہ ہی سب کی ویڈیو اور آڈیو کوالٹی ایک جیسی ہے لیکن بہرحال جہاں تک مدعا اور ویڈیوز کے کانٹینٹ کا تعلق ہے تو وہ مکمل طور پر واضح ہے اور بڑی آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ تحقیقی حوالہ جات کے لئے بہتر معیار کی تصاویر ویڈیوز میں دکھائی گئی ہیں تاکہ ناظرین دلائل کے حوالے آسانی سے نوٹ کر سکیں۔

ایک بات ذہن نشین رہے کہ اس سارے کام کا محرک، خلوص اور غرض ، صرف اصلاح ہے، اس کے سوا کچھ نہیں

Visits: 45
RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
YouTube