January 6, 2020


شرک اور استغاثہ یعنی فریاد کرنا

ہمیں شرک کی کسی منطقی اور فنی تعریف میں نہیں جانا کہ سب کو معلوم ہے کہ شرک کا معنی کسی کو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرانا ہے، چاہے اللہ کی ذات میں شریک ٹھہرائے یا افعال میں یا صفات میں۔ اب یہ تو مشرکین مکہ بھی نہیں کہتے تھے کہ اللہ عزوجل کے شریکوں نے اللہ عزوجل سے اس کے اقتدار اور اختیار کی شراکت چھینی ہے یا اس کی مرضی کے بغیر زبردستی حاصل کی ہے بلکہ ان کا عقیدہ یہی تھا کہ اللہ عزوجل نے اپنی عبادات اور نیکیوں کے انعام کے طور پر ، اپنی مرضی سے شراکت اپنے شریکوں میں تقسیم کی ہے اور یہی بات بریلوی علماء یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل نے اپنے اذن (اجازت) سے انبیاء اور اولیاء کو اپنی قدرت اور اختیار میں شریک بنا لیا ہے اور اسی کا قرآن مجید نے انکار کیا ہے کہ “وَّ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ شَرِیۡکٌ فِی الۡمُلۡکِ” (17:111) کہ اُس کے اختیار، اقتدار اور سلطنت میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔

پس استغاثہ(یعنی فریاد کرنے) کی تین صورتیں ایسی ہیں کہ جن میں استغاثہ(فریاد) کرنے والا، جس سے استغاثہ (فریاد) کر رہا ہو، اسے اللہ کا شریک بنا دیتا ہے۔ اور وہ تین صورتیں یہ ہیں کہ

*1- فوت شدگان سے استغاثہ کرنا*
*2- غائب سے استغاثہ کرنا*
اور
*3- حاضر سے اس چیز کا استغاثہ کرنا کہ جس کی وہ مطلقا(عمومی) قدرت نہ رکھتا ہو۔* یہاں مسئلہ استغاثے کے فعل کا نہیں ہے بلکہ اس استغاثے کے پیچھے موجود فکر (عقیدہ) کا ہے کہ جو شرکیہ فکر ہے۔ ان تین صورتوں میں استغاثے یعنی فریاد کرنے کا جو فعل وجود میں آتا ہے، وہ جس سے استغاثہ یعنی فریاد کی جا رہی ہو، اس کی صفات کو اللہ عزوجل کی صفات کے مماثل مان لینے کا نتیجہ ہوتا ہے *اور یہ اصل نکتہ ہے۔*
*ان تینوں صورتوں میں مخلوق کی صفت حیات، صفت سماعت اور صفت قدرت کو اللہ عزوجل کی صفت حیات یعنی ذندگی، صفت سماعت یعنی ہر جگہ سے سُننا اور صفت قدرت یعنی ہر قسم کا اختیار، کے مماثل قرار دے دیا جاتا ہے۔*

شرک کے مسئلہ میں بریلوی علماء کو وہی مغالطہ لگا جو معتزلہ کو لگا لیکن دونوں نے نتائج مختلف پیدا کیے کہ پہلا گروہ جاہلیت قدیمہ پر اصرار کرنے لگا تو دوسرے نے جاہلیت جدیدہ کو جنم دیا۔ معتزلہ نے کہا کہ چونکہ صفت قدرت، حیات، ارادہ، سماعت، بصارت اور کلام وغیرہ اللہ عزوجل میں بھی ہیں لہذا ان صفات کو اللہ عزوجل کے لیے مان لینے کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ خالق اور مخلوق میں مماثلت ہو جائے گی لہذا خالق کے لیے ان صفات کا انکار کر دو۔ یہ ایک انتہاء تھی جبکہ دوسری انتہاء بریلوی علماء کی ہے کہ خالق اور مخلوق کی صفات میں مماثلت ہو بھی جائے تو شرک اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کہ ان صفات کو عطائی مانتے رہیں یعنی یہ کہ وہ اللہ کی طرف سے دی ہوئی ہیں۔یعنی یہ کہ وہ اللہ کی طرف سے دی ہوئی ہیں ، “عطائی” کی اصطلاح اس وقت استعمال کی جاتی ھے جب کہیں عوامی دھوکہ دینا مقصود ھو اور شرک کے فتویٰ سے خود فریبی کی ڈھال درکار ھو حالانکہ عطائی تو کائنات کی ہر ہر چیز ھے تو پھر صرف “عطائی علمِ غیب” یا “عطائی مختارِ کُل” یا پھر “عطائی ماکان ومایکون” کا علم ھی کیوں بولا جاتا ھے جبکہ کائنات کے سب سے عظیم انسان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اپنی زندگی بھی عطائی، نبوت و رسالت عطائی، آپ پر وحی کا نزول عطائی، قرآن کریم عطائی، کلام رسول عطائی غرض ہر مخلوق کی ہر چیز عطائی ھے ذاتی تو کچھ بھی نہیں لہٰذا صرف لفظ عطائی کی آڑ لے کر خالق و مخلوق کی صفات میں مماثلت کے شرک سے براءت ممکن نہیں۔

اس کے برعکس آئمہ دین اور سلف صالحین کا موقف ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ خالق اور مخلوق دونوں کی صفات کا اقرار کرو لیکن مماثلت کی ہر صورت کی نفی کرو جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: *لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ ۚ وَہُوَ السَّمِیۡعُ الۡبَصِیۡرُ* (42:11)
ترجمہ:کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے ، اور وہی ہے جو ہر بات سنتا ، سب کچھ دیکھتا ہے ۔
اللہ عزوجل سمیع اور بصیر ہے لیکن اس کی سماعت اور بصارت جیسی سماعت اور بصارت اور کسی کی نہیں ہے، نہ ذاتی اعتبار سے اور نہ عطائی اعتبار سے، نہ کلی پہلو سے اور نہ جزئی پہلو سے۔ پس اللہ عزوجل نے ایک صفت سماعت کا اقرار مخلوق کے لیے کیا ہے اور ایک صفت سماعت کا اقرار خالق کے لیے کیا ہے۔ اب اگر کوئی شخص خالق کی صفت سماعت کی کسی صورت، چاہے کُلّی ہو یا جزئی، کو مخلوق میں ثابت کرے، چاہے عطائی مان لے، تو اس نے یہ دعوی کیا کہ اللہ عزوجل نے اپنی صفت سماعت کی ایک صورت اپنے کسی نبی یا ولی کو عطا کر دی اور یہی صفات میں کسی کو اللہ عزوجل کے مماثل اور مقابل قرار دینا ہے اور یہی شرک ہے اور یہی لَیۡسَ کَمِثۡلِہٖ شَیۡءٌ (کوئی چیز اسکی مثل نہیں) کے خلاف ہے۔

اس کو ایک اور مثال سے سمجھیں۔ علم ایک صفت ہے، جس کا اثبات اللہ عزوجل نے اپنے لیے بھی کیا ہے اور مخلوق کے لیے بھی کیا ہے لیکن جس طرح اس صفتِ علم کا اثبات اللہ عزوجل نے اپنے لیے کیا ہے، اس طرح مخلوق کے لیے نہیں کیا ہے۔ مثلا اللہ عزوجل نے اپنے لیے صفت علم کا اثبات قرآن مجید میں یوں کیا ہے کہ وہ سینوں کے بھید بھی جانتا ہے(3:119)، درخت کا کوئی پتہ نہیں گرتا لیکن وہ اس کے علم میں ہوتا ہے(6:59)، اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ کون کہاں مرے گا، کون کل کیا کرے گا، قیامت کب آئے گی وغیرہ۔(31:34) اب اگر کوئی شخص کسی نبی یا ولی کے لیے صفت علم کا اثبات اس طرح کرے جیسے اللہ عزوجل نے اس صفت کا اثبات اپنے لیے کیا ہے تو یہی شرک ہے۔ پس استغاثہ یا توسل ایک فعل ہے، اس اعتبار سے یہ شرک نہیں ہے لیکن اگر کسی سے استغاثہ(فریاد) کی صورت یہ ہو کہ اس میں مخلوق کی صفت کو خالق کی صفت کے مماثل قرار دیا جا رہا ہو تو یہی شرک ہے۔

اب یہ کہنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کا ایسا ہی علم ہے جیسا کہ اللہ عزوجل کو ہے تو یہی تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صفت علم کو اللہ کی صفت علم کے مماثل قرار دینا ہے اور یہی تو عین شرک ہے، چاہے اس صفت کو عطائی قرار دے۔
اللہ عزوجل نے مخلوق میں اپنی صفات تقسیم نہیں کی ہیں بلکہ مخلوق کو مخلوق کی صفات سے متصف کیا ہے۔ اور اسی کا تو اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں جا بجا انکار کیا ہے کہ ہم نے اپنی صفات مخلوق میں تقسیم نہیں کی ہیں، نہ قدرت اور نہ ہی اختیار جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے: “وہ تمہیں خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے، کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں، کچھ غلام ایسے بھی ہیں، جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں، اور تم اُن سے اُس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟ اس طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں، اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔” (30:28)۔ خلاصہ کلام یہ کہ کسی بھی صفت کو، کسی بھی مخلوق کے لیے، کسی بھی صورت میں، اس طرح ثابت ماننا جیسا کہ وہ صرف اللہ عزوجل کے لیے کتاب وسنت میں ثابت ہے، شرک ہے، چاہے اس کو ذاتی مانے یا عطائی، کلی طور مانے یا جزئی طور۔

تحریر: ڈاکٹر حافظ محمد زبیر
تسہیل و اضافہ: ابوحارث خان

Visits: 7708
RSS
Follow by Email
Facebook
Twitter
YouTube